چند اشكالات بر خدا و فعل خدا اور ان كا جواب
س1: تخلیق کی وجہ کیا ہے؟
ج:
اسلامى فلاسفه كه مطابق خدا فاعل بالتجلى هے يعنى اس كى ذات سے صادر هونے
والے هر فعل كى غرض يا غايت محض اس كه اسماء الحسناء و صفات كماليه كه
اظهار كه اور كچه نهين كيونكه فعل الاهى كى غرض يا غايت ذات كه علاوه كسى
اور شئى كو قرار دينا خدا كو فاعل و خالق
هونے كے لئے غير كا مهتاج قرار دينا هے اور جو غنى مطلق هو اس كو غنى من
جميع الجحات هونا لازمى هے يعنى وه كسى بهى جحت سے مهتاج غير نهين هوسكتا.
لهاذا كار تخلیق کی وجہ اسماء الحسناء و صفات كماليه كا اظهار و تجلى هے.
س2: چیزوں کو تخلیق کرکے وجود میں لانے کے لیے خدا کون سا میکانزم استعمال کرتا ہے؟
ج:خدا
كه خالق و فاعل هونے کے لیے اس كى ذات هى كافى هے اور كسى امر خارج از ذات
يا غير از ذات يا میکانزم كى اسے احتياج نهين كه جس كه زريه سے خالق و
فاعل بن سكے.كيونكه اگر وه خالق و فاعل هونے کے لیے كسى غير يعنى كسى
میکانزم كا مهتاج هو تو غنى من جميع الجحات نه رهے گا اور جو غنى من جميع
الجحات و واجب من جميع الجحات نه هو وه مركب هوتا هے اور هر مركب ممكن
بالذات.
س3: اگر چیزوں کو وجود میں لانے کے لیے اللہ
قوانین فطرت کا استعمال کرتا ہے تو اس کا دوسرا مطلب کیا یہ نہیں ہوا کہ
وہ فطرت کا محتاج ہے؟
ج:اس سوال كا جواب سوال نمبر 2 مين
ديا جاچكاهے كه خدا كه خالق و فاعل هونے کے لیے اس كى ذات هى كافى هے اور
كسى امر خارج از ذات يا غير از ذات يا میکانزم و قوانین فطرت كى اسے احتياج
نهين كه جس كه زريه سے خالق و فاعل بن سكے, كيونكه قوانین فطرت خدا سے
عليهده خود كوئى ذاتى استقلال نهين ركهتے بلكه وه وجودى بقا و قوام مين اس
هى كه مهتاج هين. هاں اگر قوانین فطرت ذاتى استقلال ركهتے اور واجب بالذات
هوتے اور خدا ان كه زريه سے فعل انجام ديتا تو اسے ان قوانین كا مهتاج قرار
دينا درست هوتا ليكن يه مهال هے كيونكه خدا كه سوا كوئى واجب بالذات نهين.
س4: اللہ جسموں میں روح کیوں ڈالتا ہے، جب کہ وہ انھیں بغیر روح کے تخلیق کرنے پر قادر ہے؟
ج:
اسلامى فلاسفه كه مطابق روح يا نفس جسمانيت الحدوث ہے يعنى حدوث جسم سے
قبل نفس يا روح كى كوئى حقيقت و وجود نهين هوتا لهاذا جسم مين خارج سے روح
ڈالنے والى بات عقلى طور سے درست نهين. اور يقينا خدا اجسام كو بغیر روح کے
تخلیق کرنے پر قادر ہے جس كى دليل غير ذى روح اجسام كا وجود هے كيونكه هر
جسم حيات كا حامل نهين.
س5: اللہ کائنات کی تخلیق کرنے سے پہلے کیا کررہا تھا؟ کیا وہ خلا میں اکیلا سو رہا تھا؟
ج:
اسلامى فلاسفه كه مطابق كائنات اپنى صورت كى جحت سے حادث اور اپنے جوهر كى
جحت سے قديم زمانى هے يعنى كبهى كوئى ايسا زمانه هى نه تها كه جس مين
كائنات نه هو لهاذا يه كهنا كه ”اللہ کائنات کی تخلیق کرنے سے پہلے کیا
کررہا تھا؟“ اس وقت درست هوتا جب هم كائنات كوحادث زمانى قرار ديتے يعنى يه
كهتے كه ”خدا تها ليكن كائنات نه تهى“.
س6: اللہ نے کائنات کو بنانے کے لیے اتنا انتظار کیوں کیا؟
ج:
اس سوال كا جواب سوال نمبر5 مين ديا جاچكاهے يعنى خدا نے كائنات كو خلق
كرنے مين كوئى انتظار نهين كيا كيونكه انتظاركا سوال تو اس وقت هوتا جب هم
كائنات كوحادث زمانى قرار ديتے يعنى جب كائنات نه هونے كه بعد وجود مين
اتى, جبكه ايسا نهين.
س8: ہر لحظہ پھیلتی کائنات کی بجائے اللہ نے کائنات کو یکلخت وجودمیں کیوں نہیں لایا؟
ج:
مادى و طبيعى کائنات كا پھیلنا اس كه خاص مرتبه وجود كا ذاتى اقتضاء هے
كيونكه حركت ماده كه ذاتى لوازم مين سے هے بلكل اس هى طرح جيسے تين اطراف
كا حامل هونا مثلث كه ذاتى لوازم مين سے هے اور جس طرح مثلث تين اطراف كه
بغير مثلث نهين هوسكتا اس هى طرح مادى و طبيعى کائنات حركت كه بغير مادى و
طبيعى نهين ره سكتى اور ايسا اس سے تقاضاء كرنا مهالات عقليه كو ممكن قرار
دينا هے اور يه اجتماع نقيضين هے اور قدرت خدا صرف مقدورات و ممكنات سے
وابسته هے مهالات و ممتنعات سے نهين.
س9: کیا خدا کے پاس کائنات تخلیق کرنے کا کوئی سابقہ تجربہ ہے یا وہ بغیر سابقہ تجرے کے کائنات تخلیق کرسکتا ہے؟
ج:
تجربه كى احتياج اس فاعل كو هوتى هے جو مادى و جسمانى هو اور كيونكه خدا
ايك مجرد و غير مادى موجود هے لهاذا اسے تجربه كى احتياج نهين. دوسرا يه كه
تجربه كى احتياج اس فاعل كو هوتى هے جس كا علم ناقص و حادث هو ليكن خدا كا
علم تام و كامل و قديم هے كيونكه علم عين ذات هے اور ذات قديم هے.
س10:
اللہ کو کس نے تخلیق کرنا سکھایا اور اس سے پہلے وہ اپنی تخلیقی کی
جادوگرانہ صلاحیت کا استعمال کیوں نہیں کرتا تھا؟ کیا کھربوں سال کے بعد
اچانک اس میں یہ طاقت آگئی؟
ج: اس سوال كا جواب سوال
نمبر9 مين ديا جاچكاهے يعنى علم حاصل كرنے كى ضرورت اسے هوتى هے جو مهتاج و
ممكن بالذات هو اور جس كا علم حادث,متغير و ناقص هو اور كيونكه خدا غنى
مطلق و واجب بالذات هے اور اس كا علم كامل و تام و قديم و غير متغير هے
لهاذا اسے كسى معلم كى احتياج نهين. اور جهان تك صلاحیت که استعمال كا سوال
هے تو اس كا جواب ديا جاچكاهے يعنى وه ازل سے هى اپنى قدرت كو ظاهر كرچكا.
Comments
Post a Comment