ولايت تكوينيه

چھ احباب كا تصؤر هے كے ولايت تكوينيه كے حامل افراد يا موجودات قدرت الاهى سے مستغنى [independent] هو جاتے ہیں لهاذا اس بنا پر ولايت تكوينيه يعنى تفويض غيراستقلالى مهال هے , جب كے ايسا هرگز نہیں كيونكه ايك عام انسان كو بهى اپنى قوت , استعداد و ظرفيت كى مناسبت سے تكوينى امور پر تصرف حاصل هے. هر انسان میں اپنے افعال كو ايجاد كرنے كى قوت و استعداد خدا كى جانب سے وديعت كى گى هے اور ايسا كرنے كا اراده بهى عطا كيا گيا هے تو كيا انسان كا اپنے افعال كو ايجاد كرنے کے اعتبار سے اراده و اختيار كا حامل هونا اسے خدا سے مستغنى كرديتا هے ؟ نہیں انسان كا اپنے افعال كو ايجاد كرنے کے اعتبار سے اراده و اختيار كا حامل هونا اسے خدا سے مستغنى نہیں كرتا بلكه وه بارگاه الاهى میں موجود فقير هى رهتا هے جيسا کے اس آيت میں ذكرهے : ”يا أَيُّهَا النّاسُ أَنتُمُ الفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الغَنِيُّ الحَميدُ ”.
فرشتگان اپنى قوت و استعداد کے اعتبار سے امورتكوينيه مثلاّّ حيات و موت و رزق پر تصرف ركهتے ہیں اور باذن الاهى ان امور كو ايجاد كرتے ہیں , تو كيا فرشتگان كا ان امور كو ايجاد كرنے کے اعتبار سے قوت و استعداد كا حامل هونا ان كوخدا سے مستغنى كرديتا هے ؟ نہیں فرشتگان اس کے عبد هى رهتے ہیں جيسا کے اس آيت میں ذكرهے : ” لا يَسبِقونَهُ بِالقَولِ وَهُم بِأَمرِهِ يَعمَلونَ“ [Anbiya#27].
جب ايك عام انسان اورفرشتوں كا اپنى قوت و استعداد کے اعتبار سے تكوينى امور پر تصرف كا حامل هونا ان كوخدا سے مستغنى نہیں كرتا تو ولى كامل يعنى امام معصوم كا ان امور پر تصرف كا حامل هونا اس هستى كو خدا سے مستغنى و بے نياز كيونكر كريگا.
انسان اپنے وجود میں ايك مادّى [material] جهت يعنى جسم کے ساته ايك مجرّد [immaterial] جهت يعنى نفس [soul] كا بهى حامل هے , اور تكوينى امور پر انسان کے تصرف كى وسعت كا تعلق ان دونوں جهات سے هے ورنه فقط ايك انسانى جسم يعنى مادّے ميں يه قوت كهاں کے وه تخت بلقيس كو چشم زدن ميں حاضر كرد ے جيسا کے اس آيت میں ذكرهے : ” قالَ الَّذي عِندَهُ عِلمٌ مِنَ الكِتابِ أَنا آتيكَ بِهِ قَبلَ أَن يَرتَدَّ إِلَيكَ طَرفُكَ ۚ فَلَمّا رَآهُ مُستَقِرًّا عِندَهُ“ [Namal#40]. يا فقط ايك انسانى جسم يعنى مادّے ميں يه قوت كهاں کے وه مرده و بے جان وجود كو زنده كردے جيسا کے آيت میں ذكرهے : ” أَنّي أَخلُقُ لَكُم مِنَ الطّينِ كَهَيئَةِ الطَّيرِ فَأَنفُخُ فيهِ فَيَكونُ طَيرًا بِإِذنِ اللَّهِ ۖ وَأُبرِئُ الأَكمَهَ وَالأَبرَصَ وَأُحيِي المَوتىٰ بِإِذنِ اللَّهِ ۖ“[Ale-Imran#49]. اگر تكوينى امور پر تصرف كا تعلق فقط جسم يعنى مادّے پرهى منهصر هے تو فرشتوں جيسى مجرّد مخلوق کے پاس كوى تصرف نہیں هونا چاهيے.
حقيقت يه هے كه نفس انسانى جتنا كامل , شديد و وجودى اعتبار[existentially] سے بلند هوگا اس كا تكوينى امور پر تصرف بهى اتنا هى وسيع هوگا , اور وجود جتنا مادّى وغيرمجرّد هوگا اس کے تكوينى تصرفات اتنے هى محدود هونگے .

Comments

Popular posts from this blog

حدوث و ظهور آئمه اطهار(ع)