تفويض غيراستقلالى و ال امر بين ال امرين

تفويض کے معنی امور delegate كرنے کے ہیں اور اس كى مختلف اقىسام ہیں مثال کے طور پر تكوينى ,تشريعى , ممکن, ممتنع , استقلالى وغيراستقلالى. تفويض استقلالى كا مطلب ية ہے کے ممکن الوجود موجودات ا پنے افعال كو خلق كرنے میں مکمل اختيار و قدرت کے حامل ہیں . استقلال کے معنی ية ہیں کے علّت ا پنے معلول کے وجود کے وجوب كى راه میں حايل تمام امور كومعدوم كردے , ليكن ايك ممکن بالذات علّت کے ليے ا پنے معلول کے وجود کے وجوب كى راه میں حايل تمام امور كومعدوم كرد ينا مهال هے کیونکہ ان امورمیں سے ايك امرخود اس علّت کے وجود کے عدم کا امكان هے کے جسے معدوم نہیں كيا جا سكتا اور معلول کےعدم کى علّت اس كى علّت كا عدم هوتا هے اور کیونکہ ايك ممکن بالذات علّت کے عدم كا امكان معدوم نہیں كيا جا سكتا اس هى ليے تفويض استقلالى مهال عقلى ہے. اور کیونکہ آئمه بهى ممکن بالذات ہیں لهاذا وه بهى علّت مستقلّه نہیں . تفويض استقلالى معتذلّة كے عقيدة اختيار كى هى شكل هے جس کے مطابق انسان ا پنے افعال كو خلق كرنے میں مکمل اختيار و قدرت کا حامل هے اور اس میں الاهى قضا و قدركا كوى عمل دخل نہیں, لیکن یہ عقیدہ قرآن کے خلاف ہے جو کے ممکن بالذات موجودات كو هر جهت سے واجب الوجود كا مهتاج و فقير قرار ديتا هے جيسا کے اس آيت میں ذكرهے : ”يا أَيُّهَا النّاسُ أَنتُمُ الفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الغَنِيُّ الحَميدُ ”. تفويض استقلالى هى حقيقى تفويض هے.
معتذلّة كے عقيدة اختيار كے بالمقابل Asharites كا عقيدة جبر هے جس کے مطابق عالم تكوين میں فاعل صرف خدا هے اوركسى بهى ممكن بالذات علّت كوا پنے معلول كو ايجاد كرنے كى تاثير حاصل نہیں. یہ عقیدہ بھی غلط ہے کیونکہ یہ عقیدہ نظریہ جزا و سزا كے خلاف هے کیونکہ اگرفاعل صرف خدا هے تو گناہوں كى سزا صرف انسان هى كو كيون ملے کیونکہ گناہوں كے سلسلے میں صرف تين امكانات هو سكتے ہیں , اوّل یہ كے گناہ انسان هى سے سرذد هوا , دويم یہ كے گناہ خدا سے سرذد هوا اور سويم یہ كے خدا اور انسان دونوں سے سرذد هوا اب اگر گناہ خدا سے سرذد هوا تو سزا صرف انسان هى كو كيون ملے, اور اگرخدا اور انسان دونوں سے سرذد هوا تب بهى سزا صرف انسان هى كو كيون لهاذا درست قول يهى هے كے گناہ انسان هى سے سرذد هوا کیونکہ وه ا پنے اراده و اختيار سے ا پنے فعل كا فاعل وخالق هے.
لهاذا عقيدة اختيار يعنى تفويض استقلالى اور عقيدة جبراگردونوں باطل ہیں توحق كيا هے؟ حق ال امر بين ال امرين هے کیونکہ اس امامى نظریہ كے مطابق الاهى قضا و قدر جبرى نہیں اس هى طرح انسان كوا پنے افعال كو خلق كرنے میں مکمل اختيار و قدرت حاصل نہیں , نظریہ ال امر بين ال امرين انسانى اختياركى مکمل نفى نہیں كرتا صرف اسے تكوينى طورسے محدود قرار ديتا هے , کیونکہ حق یہ هے كے انسانى اختيار هى میں الاهى قضا و قدر مخفى هے کیونکہ الاهى قضا و قدر نے عالم تكوين اس طرح تشكيل ديا هے كے جب ايك انسانى فاعل میں كسى فغل كو انجام دينے كى نسبت سے اراده و اختيارجمع هوجایں تو وه فغل وجود میں آجاے اور جب ان میں سے كوى ايك بهى اگرمفقود هو تو وه فغل متحقق و موجود نا هو, يهى الاهى قضا و قدر ال امر بين ال امرين هے .
عللامة طباطباى (ره) كے مطابق تمام افعال كے وجود كى نسبت ذات حق سے هے کیونکہ خدا هى نے هر ممکن بالذات علّت يا فاعل میں افعال كو ايجاد و خلق كرنے كى تاثير, استعداد و قوت وديعت كى هے لهاذا اصلا وه هى افعال بلكة تمام اشياء كا خالق هے جيسا کے اس آيت میں ذكرهے : ” وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ” [Al-An‘am#101] , ليكن عللامة طباطباى (ره) كے مطابق فاعل كے افعال كى اخلاقى حيثيت يعنى اس فغل كا خير يا شرهونا فاعل سےهى منسوب هوگا خدا سے نہیں کیونکہ خدا ہر قسم کے نقص سے پاک و منذة ہے جيسا کے اس آيت میں ذكرهے : ” وَما أَصابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَفسِكَ" [Al-e-Imran#79]
تفويض استقلالى يعنى عقيدة اختياراور عقيدة جبر كے عقلى بطلان كے بعد ية ثابت هے كے الاهى قضا و قدر ال امر بين ال امرين هے اور ال امر بين ال امرين هى تفويض غيراستقلالى هے جيسا کے آيت الله خمينى (ره) نے عدل الاهى میں فرمايا هے اور جس كا مطلب هے کے انسانى اراده و اختيار میں هى الاهى قضا و قدر مخفى هے. تفويض غيراستقلالى کے مطابق هر فاعل چاهے وه فرشتة هو انسان يا جن ا پنے فغل كوصرف اس هى صورت میں ايجاد يا خلق كر سكتا هے جب فاعل میں اس فغل كو انجام دينے كى نسبت سے اراده و اختيارجمع هوجایں اور جب ان میں سے كوى ايك بهى اگرمفقود هو تو وه فغل متحقق و موجود نہیں هو سكے گا اور يه خدا كے اراده تكوين كے مطابق هے. نظام تكوين میں ايك عام فغل ومغجزه میں كوى فرق نہیں. افعال كو ايجاد يا خلق كرنے كى انسانى قوت و استعداد خدا كى جانب سے غطا كرده وجودى قوت هے اور انسان كا افعال كو ايجاد يا خلق كرنے كى قوت و استعداد كا حامل هونا كسى بهى طور سے عقيدة توحيد کے منافى نہیں. جب عیسی (ع) نے طيرخلق كيا جيسا کے اس آيت میں ذكرهے ” أَنّي أَخلُقُ لَكُم مِنَ الطّينِ كَهَيئَةِ الطَّيرِ“[Ale-Imran#49] تو كيا عیسی (ع) نے خلق كيا يا خدا نے خلق كيا ؟ اگر صرف عیسی (ع) نے خلق كيا تو يه تفويض استقلالى هے جو کے باطل و محال عقلى هے اوراگر صرف خدا نے خلق كيا تو يه جبر هے اور يه دونوں صورتيں مهال ہیں. حق يه هے کے طيرعیسی (ع) نے خلق كيا خدا كى جانب سے غطا كرده وجودى قوت و استعداد سے يا يوں كهيں کے خدا نے خلق كيا عیسی (ع) کے ذريه سے ايك هى بات هے. يا جب آيت میں ذكرهے ” وَأُحيِي المَوتىٰ“[Ale-Imran#49] تو كيا عیسی (ع) نے مرده زنده كيا يا خدا نے ؟ اگر صرف عیسی (ع) نے زنده كيا تو يه تفويض استقلالى هے جو کے باطل هے اوراگر صرف خدا نے كيا تو يه جبر هے. حق يه هے کے عیسی (ع) نے مرده زنده كيا خدا كى جانب سے غطا كرده وجودى قوت و استعداد سے يا يوں كهيں کے خدا نے زنده كيا عیسی (ع) کے ذريه سے. نظام تكوين میں ايك عام فغل ومغجزه میں كوى فرق نہیں يعنى هم جوافعال انجام ديتے ہیں وه يا تو هم خلق كرتے ہیں يا خدا , اگر صرف هم خلق كرتے ہیں تو يه تفويض استقلالى هے اور اگر صرف خدا خلق كرتا هے تو يه جبر هے . حق يه هے کے افعال هم خلق كرتے ہیں خدا كى جانب سے غطا كرده وجودى قوت و استعداد سے يا يوں كهيں کے خدا خدا خلق كرتا هے انسان کے ذريه سے اور يهى تفويض غيراستقلالى وال امر بين ال امرين هے.

Comments

Popular posts from this blog

حدوث و ظهور آئمه اطهار(ع)