اذليت و حدوث عالم

فلسفہ میں سب سے زیادہ پیچیدہ سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ آیا یہ کائنات اذلى ہے یا حادث , فلاسفه کے مطابق کائنات اذلى ہے جبکہ متکلمان [theologians] یقین رکھتے ہیں کے کائنات حادث ہے. فلاسفه کی نظر میں کائنات خدا کے وجود سے ایک emanation ہے جیسے آفتاب کی شعاعوں آفتاب کے وجود سے ایک emanation ہیں اور اس وجہ سے خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق آفتاب اور اس کی کرنوں کے درمیان رشتے کی طرح ہے اور ظاہر سی بات ہے آفتاب کے وجود کو ہمیشہ اس کی کرنوں کے وجود کے ساتھ پایا جائے گا اور یہ ممکن نہیں کہ وجود آفتاب کرنوں سے خالی ہو: اسی طرح فلاسفه کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ وجود خالق وجود مخلوق کہ بغیر ہو. کیونکہ اگر وجود خدا مخلوق کہ بغیر پایا جائے گا تو وہ علت ناقصة [imperfect or incomplete cause] ہوگا لیکن وجود خدا ہر قسم کے نقص سے پاک و منذة ہے. اور کیونکہ علت ناقصة و علت تامة يا كاملة [perfect or complete cause] کے مابین کوئی واسطه نہیں ہے اس لیے خالق کائنات کا علت کاملہ ہونا ثابت ہے. فلاسفه کے اس عقیدے کا سبب علت کاملہ کی ایک خصوصی تعریف ہے جس کے مطابق علت کاملہ اس طرح کا موجود ہے جس کے وجود اور معلول [effect] کے مابین کوئی زمانی فاصله نہیں; اس کا مطلب ہے کہ اثبات وجود علت کاملہ کے ساتھ اس سے مربوط معلول کا وجود بھی تحقق حاصل کر لیتا ہے; ایک اور قول کے مطابق علت کاملہ وہ علت ہے جوان تمام شرایط وصفات کی حامل ہو جو ایجاد وجود معلول کے لیے ضروری ہیں اور جن کی عدم موجودگی میں معلول کووجود حاصل نہیں ہوگا. فلاسفه کی دوسری دلیل یہ ہے کہ واجب الوجود کو ہر پہلوسے واجب ہونا ضروری ہے جس کا مطلب یہ ہے کے اسے causation کے اعتبار سے بھی واجب ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر causation کے اعتبار سے واجب نہیں ہوگا تو ممکن ہوگا اور وجوب [necessity] و امکان [contingency] کا مرکب بن جائے گا اور مرکب ہو نے سے بسيط الحقيقة نا ہوگا جوکے توحید کے مخالف ہے.
متکلمان کے مطابق قديم صرف خدا کی ذات ہے اورمخلوق , معلول [effect] ومهتاج هونے کےليے حادث ہونا ضروری ہے اس ليے وہ کائنات كو حادث مانتے ہیں . فلاسفه کے مطابق مخلوق , معلول [effect] ومهتاج هونے کےليے حدوث شرط نہیں بلكة امکان شرط ہے اس هى ليے ايك قديم کائنات بهى مخلوق , معلول ومهتاج ہوگى ا گر وہ ممكن ہو.

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

حدوث و ظهور آئمه اطهار(ع)